حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کی مناسبت سے مسجد مقدس جمکران کی فضا سوگوار تھی۔ عاشقانِ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف یہاں جمع ہوئے تاکہ ان کے والد گرامی کی شہادت پر حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت پیش کریں اور اشک و دعا کے ذریعہ صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے تجدیدِ عہد کریں۔
گذشتہ دنوں مسجد مقدس جمکران زائرین اور محبانِ اہل بیت علیہم السلام کی میزبان تھی جو حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے والد گرامی حضرت ابالمہدی امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے غم میں جمع ہوئے اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ صاحبِ عزا کے گھر میں عزاداری کی۔
مسجد مقدس جمکران میں عزاداری کے جلوسوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ جلوس حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں سوگ اور تعزیت پیش کرنے کے لیے مسجد صاحبِ عزا پہنچے اور حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں عقیدت و احترام کا اظہار کیا۔
منتظرینِ ظہور کے مرکز میں سرخ پرچموں کے ساتھ ’’یالثارات الحسین‘‘ اور ’’یا لثارات الخامنہ ای‘‘ کے پرچم بھی انتقام اور خونخواہی کی علامت کے طور پر لہرائے گئے۔ لوگوں نے رہبر شہید (رہ) کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ’’انتقام اور خونخواہی‘‘ کے نعرے بلند کیے۔
حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے مسجد مقدس جمکران میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے روزِ شہادت کی مناسبت سے منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے اس عظیم امام کی شہادت پر حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور تمام شیعیانِ اہل بیت علیہم السلام کی خدمت میں تعزیت پیش کی اور کہا: امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی مختلف پہلوؤں سے خصوصی حالات اور اہمیت کی حامل تھی اور دیگر ائمہ علیہم السلام کے ادوار سے اس میں اہم نمایاں فرق موجود تھے۔

انہوں نے مزید کہا: امام عسکری علیہ السلام کی نگاہ میں شیعہ کو وہاں موجود ہونا چاہیے جہاں اللہ تعالیٰ نے حاضری کا حکم دیا ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے وہاں حاضر نہیں ہونا چاہیے۔ لہٰذا نماز، روزہ، حج، حجاب اور دیگر واجباتِ الٰہی کو شیعہ کی زندگی میں حقیقی مقام حاصل ہونا چاہیے اور گناہ، غیبت، فساد اور حرام امور سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔









آپ کا تبصرہ